پریشان دل کی آہ ताक़त मिल जाने का मतलब यह नहीं है कि तुम.../ शेख सादी
پریشان دل کی آہ
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ظالم شخص غریبوں پر ظلم کرتا رتھا اور ان کی لکڑیاں سستے داموں خریدتا اور انہیں آگے زیادہ منافع پر فروخت کردیتا رتھا۔ایک دن ایک نیک شخص کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو اس نے کہا کہ تو ہر کسی کو ڈستا ہے کیا تو سانپ ہے؟تو وہ الوہے جو جہاں بیٹھتا ہے وہاں ویرانی کر دیتا ہے۔
![]() |
| शेख सादी |
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ ایک ظالم شخص غریبوں پر ظلم کرتا رتھا اور ان کی لکڑیاں سستے داموں خریدتا اور انہیں آگے زیادہ منافع پر فروخت کردیتا رتھا۔ایک دن ایک نیک شخص کا گزر اس کے پاس سے ہوا تو اس نے کہا کہ تو ہر کسی کو ڈستا ہے کیا تو سانپ ہے؟تو وہ الوہے جو جہاں بیٹھتا ہے وہاں ویرانی کر دیتا ہے۔اگر تیرا مخلوق پر زور ہے تو اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ تیرا زور اللہ عزوجل پر بھی چل جائے۔زمین والوں پر ظلم نہ کر کہ تیرے خلاف کسی کی دعا عرش تک پہنچ جائے۔
اس بدبخت کو یہ نصیحت اچھی نہ لگی اور اس نے اس نیک شخص کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔دولت کی لالچ نے اسے گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔پھر ایک رات اس کی لکڑیوں کو آگ لگ گئی اور سب کچھ جل کر راکھ بن گیا۔اب وہ نرم بستر کی بجائے گرم راکھ پر بیٹھا کرتا تھا۔
ایک دن وہی نیک شخص وہا ں سے پھر گزرا اس نے اس ظالم کو کسی سے بات کرتے ہوئے سنا کہ پتہ نہیں آگ کہاں سے آئی اور اس نے میرا تمام ذخیرہ جلا کر راکھ کردیا۔
اس نیک شخص نے اس کی بات سنی تو کہا کہ یہ غریبوں کے دلوں کا دھواں تھا۔زخمی اور پریشان دل کی آہ سے ڈر اور کسی کو غمزدہ نہ کرو کیونکہ پریشان دل کی آہ سارے جہان کو پریشان کردیتی ہے۔
خسرو کے محراب پر لکھا ہوا تھا کہ تو سینکڑوں سال بھی حکومت کرلے پھر تو جب بھی خاک میں ملے گا مخلوق ہمارے سروں پر چلے گی اور جس طرح یہ حکومت ہمارے ہاتھ آئی اسی طرح دوسروں کے ہاتھوں میں بھی چل جائے گی۔
مقصود بیان:
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ طاقت مل جانے پر یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر کمزور کو دبا دو بلکہ طاقت وقوت ملنے پر تمہیں کمزوروں کی مدد کرنی چاہیے۔مظلوم کی دعا اللہ عزوجل عرش پر سنتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔اللہ عزوجل کی پکڑ سے ڈرو کہ جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو کوئی چھڑوا نہیں سکتا۔بے شک اللہ عزوجل نے ظالموں کی رسی دراز کی ہے مگر جب وہ اس رسی کو کھینچتا ہے تو پھر اس کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہی
اس بدبخت کو یہ نصیحت اچھی نہ لگی اور اس نے اس نیک شخص کی بات پر کوئی توجہ نہ دی۔دولت کی لالچ نے اسے گناہوں کی دلدل میں دھکیل دیا۔پھر ایک رات اس کی لکڑیوں کو آگ لگ گئی اور سب کچھ جل کر راکھ بن گیا۔اب وہ نرم بستر کی بجائے گرم راکھ پر بیٹھا کرتا تھا۔
ایک دن وہی نیک شخص وہا ں سے پھر گزرا اس نے اس ظالم کو کسی سے بات کرتے ہوئے سنا کہ پتہ نہیں آگ کہاں سے آئی اور اس نے میرا تمام ذخیرہ جلا کر راکھ کردیا۔
اس نیک شخص نے اس کی بات سنی تو کہا کہ یہ غریبوں کے دلوں کا دھواں تھا۔زخمی اور پریشان دل کی آہ سے ڈر اور کسی کو غمزدہ نہ کرو کیونکہ پریشان دل کی آہ سارے جہان کو پریشان کردیتی ہے۔
خسرو کے محراب پر لکھا ہوا تھا کہ تو سینکڑوں سال بھی حکومت کرلے پھر تو جب بھی خاک میں ملے گا مخلوق ہمارے سروں پر چلے گی اور جس طرح یہ حکومت ہمارے ہاتھ آئی اسی طرح دوسروں کے ہاتھوں میں بھی چل جائے گی۔
مقصود بیان:
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ طاقت مل جانے پر یہ نہیں کرنا چاہیے کہ ہر کمزور کو دبا دو بلکہ طاقت وقوت ملنے پر تمہیں کمزوروں کی مدد کرنی چاہیے۔مظلوم کی دعا اللہ عزوجل عرش پر سنتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔اللہ عزوجل کی پکڑ سے ڈرو کہ جب اس کی پکڑ ہوتی ہے تو کوئی چھڑوا نہیں سکتا۔بے شک اللہ عزوجل نے ظالموں کی رسی دراز کی ہے مگر جب وہ اس رسی کو کھینچتا ہے تو پھر اس کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہی
![]() |
| शेख सादी |
'देख! ज़मीन पर रहने वाले बन्दों पर ज़ुल्म मत कर. तुझे नहीं मालूम, जाने कब किस दुखी बन्दे की बद्दुआ उसके दिल से निकलकर आसमानों के उसपार बैठे खुदा तक पहुंच जाये जो ताक़त भी देता है और उसे छीन भी लेता है.
उस निर्दयी व्यक्ति को नेक बन्दे की नसीहत पसंद नहीं आई. वह अपने गुनाहों का दलदल तैयार करता रहा. एक रात उसकी लकड़ियों के ढेर में आग लग गई. सबकुछ जलकर राख हो गया. वह अब राख पर बैठता और उसी पर सो जाता था.
एक दिन वही नेक बंदा फिर उसी रास्ते से गुज़रा और देखा कि ज़ालिम इंसान की सारी लकड़ियां राख हो चुकी हैं और वह किसी आदमी से बातें करते हुए कह रहा है कि न जाने कहाँ से आग आई और उसकी लकड़ियों के ढेर को राख में बदल कर लौट गई.
सुनकर नेक बन्दे ने कहा, यह ग़रीबों के सीने से निकली आह का धुँआ है. परेशान और दुखी ग़रीब को और परेशां मत करो क्योंकि ग़रीब की आह दुनिया को जलाकर रख कर देती है.
खुसरो के मेहराब पर लिखा हुआ था, 'तू सैकड़ों साल हुकूमत करले, अंततः तुझे उसी मिटटी में मिल जाना है जिस पर चलकर तेरे अवाम ने अपने सिरों पर तुझे उठाया था. याद रख, अवाम, जिस तरह तेरे दरवाज़े तक आकर तुझे बादशाह बनाती है, उसी तरह वह तुझे तख़्त से उतार भी देती है.
ताक़त मिल जाने का मतलब यह नहीं है कि तुम ग़रीब और कमज़ोरों को दबाओ. नही,! ऐसा होने पर तुम्हें कमज़ोरों की मदद करनी चाहिए. उससे रब खुश होता है. रब की पकड़ मज़बूत है, जब वह पकड़ता है तो कोई नहीं छुड़ा पाता. पहले वह अपनी रस्सी को ढील देता है, फिर खींचता है. जब खींचता है तो ज़ालिम की मदद को कोई नहीं आता. जिस्म पत्थर हो जाता है लेकिन सांस नहीं निकलती है.
__________________________________________________________
.'ब्लाग-मंच' आपका है। इस मंच से उठने वाली हर आवाज़ देश और समाज के बदलते राजनीतिक, सामाजिक व आर्थिक समीकरणों को दिशा प्रदान करती है. आइये! सब कंधे से कंधा मिलाकर प्रगतिशील और जागरूक भारत और उसके विकासशील समाज व राष्ट्र को अप्रदूषित, भयमुक्त, स्वच्छ और सशक्त लोकतंत्र का नया स्वर प्रदान करें। आपकी रचनाएं आमंत्रित हैं। Contact: zaidi.ranjan20politcs1@blogger.com, facebook@ranjanzaidi786.com, twitter@


टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें