Rooh ko kiski talash?/ Ranjan Zaidi
آداب عرض
طلاق
خبر ہے کہ پاکستان میں چناو اب شاید ہو ہی جاینگے- ایسے حالات میں پاکستان کے موجودہ وزیرے آعظم شہباز شریف کے ہاتھ پانوں ضرور پھولنے لگے ہیں- ایک طرف کرسی جانے کا خوفناک تصوّرذہنی خلفشار کو بڑھانے میں لگا ہوا ہے تو دوسری طرف حرم کی بیویوں نے ناک میں دم کر رکھا ہے.لندن میں بڑے بھای کی ڈانٹ کھا لینے کے بعد بڑی بیگم نصرت نے بڑے میاں سے شکایت کی ہے کہ وہ چھوٹے میاں پر شادیاں کرتے رہنے پر لگام لگایں نہیں تو شریفوں کے خاندان کا شیرازہ بکھر جاےگا-
اس شکایت سے چھوٹے میاں کے غصّے کی گاج بیچاری چھوٹی بیگم عالیہ پر ایسی گری کہ چھوٹے میان نے لندن سے آتے ہی بیگم عالیہ کو طلاق دے دیا- میاں کے اس قدم سے حرم سرا کی چہیتی بیگم تہمینہ درّانی کی نیندیں ہی اڑگی ہیں-انھیں ڈر ہے کہ کہیں چھوٹے میاں کے کرسی چھنتے ہی وہ بھی طلاق زدہ نہ ہو جائے-
میاں منشی نے خبردی ہے کہ پاکستان کے خطرناک حالات کی طرح لندن کے میاؤں کے گھر میں بھی سب خیریت نہیں ہے-
اسٹیشن کے پلیٹفورم کی گہماگہمی میں ابھی میں رچ-بس ہی رہا تھا کہ ایک نامعلوم قبیلے کا کوہستانی شخص میرے پاس آکر کھڈا ہو گیا اس وقت میں فون پر اپنی ماں سے بات کر رہا تھا، کہ میں اسٹیشن پر پہنچ گیا ہوں اورانکی ہدایتوں پر عمل کر رہا ہونں. میں نے ابھی تک کسی بھی اجنبی لڑکی یا عورت سے بات نہیں کی ہے ہان، ایک نامعلوم قبیلے کا کوہستانی شخص میرے آکر کھڈا ہو گیا ہے اور یکٹک مجھے دیکھ رہا ہے، شاید مجھسے کہیں یا کبھیملا ہوگا- بس ٹرین کا انتظار ہے- وہ کسی کو فون پر بتا رہا تھا کہ بہت تیز بارش ہونے والی ہے اور اتنا کہکر وہ میری بغل کی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا- اب وہ مجھ سے مخاطب تھا،"رات بھر بارش ہونے کی وجہ سے اش شمے موشم کتنا شہنا ہو گیا ہے شاب جی...!"
متاصر نہ ہوتے ہوے بھی میں نے اس کی طرف دیکھا، چپٹی ناک، چوڑی چھاتی، سر پر نیپالی ٹوپی اور بدن پرکرتا پاجامہ، کرتے پر کالے رنگ کا پرانا کوٹ پہنے وہ گٹھیلے قد کاٹھی کا لاؤبا لی نوجوان بڑا ہی عجیب اور ہیبتناک سا لگ رہا تھا- سامنے بینچ پر جب ایک شادی شدہ نوجوان لڑکی آکر بیٹھی تو وہہی پہاڈی شخص اس معصوم بچچے کو دکھنے لگا جسکی گود میں کھلونے والے دو کبوتر بار بار پھسل کرفرش پر گر جاتے تھے اور ماں انھیں اٹھاکر بچچے کو سونپ دیتی تھی- پہاڈی شخص اس منظر کو غور سے دیکھ رہا تھا، مہینے سنا، وہ کہ رہا تھا،"کیشی عجیب بات ہے، رشتے بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں، کبوتر کی زبان کون سمجھیگا؟ان شے محبّت کرو تو کندھے پر آ جاینگے، کشکر پکڑو تو یہ مر جاینگے، دھیرےشے پکڑو تواوڈ جاینگے، آدمی کی قشمت اورموشم پر بھروشہ نہیں ہوتا ہے شاب جی!"
میں تعجب سے اس اجنبی نوجوان کو غور سے دیکھنے لگا تھا کہ اسنے یہ بات کسسے کہی ہے؟ آخرکارمجھے پوچھنا پڑا، یہ تو بہت بڑی بات کہ دی ہے تم نے- تم کہاں جا رہے ہو؟"
"بہت لمبا شفر ہے شاب جی-" وہ یکایک بہت اداس نظر آنے لگا تھا ،"شفر کی آخری لکیر نہیں ہے- میری حالت ا وش مور اور ہنش جیشی ہے جو ناچتے شمے روتا ہے اور مرتے شمے گانے لگتا ہے...." کتنا عجیب سا جواب تھا اسکا- ٹرین سے اسے کہیں نہ کہیں تو جانا ہی ہوگا- عجیب پھیلی بن رہا ہے یہ شخص- اسکی طرح میں بھی آتی جاتی ٹرینوں اورمسافروں کو دیکھنے لگ جاتا ہوں-لیکن کوئی کشش تھی جو مجھے اسسے باتیں کرنے پراکسا رہی تھی-میں نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھکر کہا،"کوئی بات ضرور ہے جسے لیکر تم پریشان ہو- مت پریشان ہو- کوفی پیوگے؟" لیکن اسنے تو بات ہی بدل دی اور جواسنے کہا، وہ آپ بھی سنینگے تو ششدر رہ جاینگے- "وہاں شے آپ شلیگوڈی پھرآپ دارجلنگ جاینگے .....جا رہے ہیں نہ شاب جی؟"
"تمہیں کیسے پتہ کہ میں دارجلنگ جا رہا ہوں، کولیمپونگ بھی جا سکتا ہون ... بھوٹان بھی ، کہیں اور بھی!"جا سکتا ہوں، کہیں اور بھی...."
"اندازے شے شاب جی، ریل آپکو نیو جلپایگٹی کل پہنچایگی-وہاں ہلکوٹ روڈ شے آپ ٹیکشی لیکر ٢٠ منٹ میں دارجلنگ پہنچ جاینگے-دیوتاؤں کی نگری ہے شاب جی-وہاں مہاکال مندر میں بھگوان شو کا ڈیرہ ہے- کنچنجنگھا کی برفیلی چوٹیوں پر میں بہت بار گیا ہوں-گوروں نے ان گھاٹیوں کو دیکھ کر ہی دارجلنگکو بشایا تھا-"
"کمال ہے، تم تو بہت کچھ جانتے ہو! " میں نے کہا،"گائیڈ ہو؟ کیا لیتے ہو؟ کچھ اور بتاؤ...." میرے جسم میں سنسنی سی دوڑنے لگی تھی- وہ بتا رہا تھا،"ہم نیپالی لوگوں کو گورے لوگ ہی چاے باگان میں مزدور بناکر دارجیلنگ میں لایا تھا- شارے لوگ کام کرتے تھے، شندرشندر بھوٹیا، لیپچا، اور بودھ پریاں کام کرتی تھیں، دودھ کی طرح شفید،اور بڑی الایچی کی طرہ مہکدار- شاب جی، آپنے کبھی کشی شے پیار کیا ہے؟
--------------------------------------------------------
https://alpst-politics.blogspot.com./ इस मंच से उठने वाली हर आवाज़ देश और समाज के बदलते राजनीतिक, सामाजिक व आर्थिक समीकरणों को दिशा प्रदान करती है. contact:https:alpst-politics.blogspot.com/ facebook@ranjanzaidi786.com, and twitter@ranjanzaidi786.com, -लेखक
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें