कथा-अनन्तः KATHA-ANANTAH کتھا اننتہ پرنسپل میڈم اپنی کرسی پر پیچھے گردن ڈھلکاے پلکیں موندے بیٹھی ہلتی رہیں- پتہ نہیں کیوں آج انھیں پورا وجود ہلتا ہوا سا محسوس ہوا تھا- کاجل نے کچھ ہی پلوں میں گزشتہ زندگی کے سارے اوراق کھولکررکھ دے تھے-اب وہ اپنے ملول دل کے ساتھ اپنی کرسی پر دیر تک نہیں بیٹھ سکتی تھیں- : Urdu Novel 'TAHE_Aab' اردو ناول 'تہ آب ' Dr. Z. A....


Dr. Z. A. Zaidi, Ranjan Zaidi      
.....گیٹ پر پہونچکر ہنومان سنگھ راجپوت کا دل زور ...
    ہلدھرسدن ایم جی روڈ پرواقعہ مرحوم بیرسٹرسدھیندو ہلدھرکی آبائی کوٹھی واقہ ہے- برسوں پہلے انگریزوں کے زمانے میں سدھیندو ہلدھرپولیس کمشنر پیٹر ڈیسوزا کی خوبصورت بہن جینیفر مرچینٹ کوکولکتا سے  بیاہکردارجلنگ لاے تھےجوآریہ  سماج مندر سے نکلتے-نکلتے موحترمہ شریمتی یشودھرا ہلدھر بن جاتی ہیں-اب لقودق بنگلے میں نہ جینیفر ہیں اور نہ ہی کمشنر سدھیندو ہلدھر-انگریزوں کے زمانے سے ہی اس عزیم اشان  تاریخی بنگلے میں شہر کا جانا مانا سدھیندو ہلدھر ڈانس اکادمی  واقعہ تھا جو اب پوسٹ گریجویٹ کولیج  کی شکل میں تبدیل ہو چکا ہے-جونیر کانونٹ سے لیکر سینیر کونونٹ اور پھرگریجویشن تک تعلیم کے حصول کے لئے طلبہ اسی ادارے کی طرف آتے نظر اتے ہیں-لیڈی جینیفرکی کوئی اولاد نہیں تھی-اسی نقطے نگاہ سے انہوں نے اپنے سگے بھائی کرشن لال  فریزر کی بیٹی سوزی فریزر کو گود لے لیا تھا-اسنے وکالت کی پڑھائی کی اور کولج کی دیکھ-ریکھ کے ساتھ جوڈیشری میں بھی قسمت آزماتی رہی-ایک دن ایسا آیا کہ وہ وومنس کورٹ کی جج بن گی اور تبھی کے دنوں میں اسکی بیٹی آرادھنا بلاتکارکانڈ کا شکار ہو گی- اس صدمے نے سوزی فریزر کو نیم پاگل بنا دیا اور وہ سب کچھ چھوڈ چھاڈ کردارجلنگ میں لے آئی گیی- بیٹی کا نام آرادھنا تھا - ماں لیڈی جینیفرنے سوزی کو بہت سہارا دیا-اسکے ساتھ اسکے سگے والد پیٹر ڈیسوزا، مان  والد-والدہ بھی گووا  سے دارجلنگ آ گئے- 

टिप्पणियाँ

इस ब्लॉग से लोकप्रिय पोस्ट

पुस्तक : इतिहास के झरोखे से ( 3 ) /डॉ. रंजन ज़ैदी

महाभारत युद्ध नहीं, एक युग था./ रंजन ज़ैदी

ज़मीं खा गयी आसमान कैसे-कैसे/रंजन ज़ैदी