چلے بھی آؤکہ انساں کا خون ہے سستہ-
جلے مکان بھی سستے ہیں اور بدن سستہ-
میں جانتا ہوں مرا خود پہ اعتماد نہیں،
نیا نظام دکھاےگا زیست کا رستہ-
تمہارے ہاتھ میں تلوار ہے ستم کر لو،
شجاعتیں تو ہماری بھی ہونگیں دانستہ
مکاں گریگا توٹوٹینگیں کچھ نہ کچھ اینٹیں-
بہت سے پھول جڈینگے بنےگا گلدستہ-
میں جانتا ہوں مرا خود پہ اعتماد نہیں،
نیا نظام دکھاےگا زیست کا رستہ-
اندھیری رات چراغوں پہ کتنی بھاری ہو،
یقیں کروکہ صبح بھی ہے شب سے وابستہ-
ہمیں ہمارے خدا نے جو عظمتیں بخشیں،
وہی سباق ہیں ذہنوں سے اب بھی وابسطہ'
غزل ١٦/٩/٢٠٢٠
ہ-
غزل ١٦/٩/٢٠٢٠
کیسی ہے رات کتنے ستارے ہیں غم گسار،
لہجے میں احتجاج ہوا میں ہے انتشار-
ملاح ساحلوں پہ کہیں ناؤ لے کے چل،
موجوں کی زد میں ناؤ اچھلتی ہے بار نار-
الزام ہے کہ ہم کو محبّت نہیں عزیز،
سچ یہ ہے چھین چکا ہے ہمارا سکوں قرار-
وہ اب بھی سو رہا ہے کئی جگنوں کے ساتھ،
کچھ تتلیوں کے پنکھ سرہانے ہیں شرم مسار-
سرحد پہ سیرگاہ تمننا کہاں زوہیر،
میداں سجا ہوا ہے سپاہی ہیں بادہ خوار-
******
Chandni raat hai baant lo kuchh gham Ashk ka dariya bant diya. Chaand idhar hai rifaqton ka Abr udhar se chhant diya.
Haqiqaton ko jhuthlane se jhooth ko vusat milti hai,
firqa-parasti yuN phailakar humne khuda bhi baant diya.
Usne kiya jan khaak pe sahda butkhane bhi chunk uthe,
Koh-e-garaN se patthar ludhka usne badan ko kaat diya.
Vh Asare-qadeemah se tha qisse bhi gadh leta tha,
Basti men aate hi usne Shankh-Shivala baant diya.
Kitne raushan zahn yahaaN the khaknasheeN ho gaye 'Zuhair',
Kitne Bargad yahaaN-vahaN the Peepal tak ko kaat diya.
غزل
ڈر. زیدی ظہیر احمد زیدی
چاندنی رات ہے بانٹ لوکچھ غم اشک کا دریا پاٹ دیا-
چاند ادھرہے رفاقتوں کا ابر ادھر سے چھانٹ دیا-
حقیقتوں کو جھٹہلانے سے جھوٹھ کو وسعت ملتی ہے،
فرقہ پرستی یوں پھیلاکر ہم نے خدا بھی بانٹ دیا-
اسنے کیا جب خاک په سجدہ بتخانے بھی چونک اٹھے'
کوہ گراں سے پتّھر لڑھکا اس نے بدن کو کاٹ دیا -
وہ آسا ر قدیمہ سے تھا قصّے بھی گڑھ لیتا تھ
بستی میں آتے ہی اس نے شنکھ شوالہ بانٹ دیا
کتنے روشن ذھن یہاں تھے خاک نشین ہو گئے زوہیر
کتنے برگد یہاں وہاں تھے پیپل تک کو کاٹ دیا
______
Dr. Zuhair Ahmad Zaidi
From 'Share-SozaN' Urdu Poems Collection, Published
ISBN: 93-8938921-6
نظم
گٹھریکھولو-
اؤ کھولیں پیار کی گٹھری
اس میں ڈھونڈھیں پیار کا بٹوا
بٹوے میں رشتوں کی تمباکو ہوگی
روشن چہروں کی کچھ یادیں ہونگیں
گٹھری کھولو !
دیکھواس میں پان، سروتا، کتھا، چونا بھی ہوگا
تمباکوکی مہک پرانی لپٹی ہوگی
شکووں کی بھی اس میں ماچس ہوگی
شاید کوئی ڈبیا بھی
ڈبیا میں ہی صدقے کےکچھ سککے ہونگے
لونگ کا اپنا جلوہ ہوگا, خوشبوہوگی کھول کے دیکھو
گٹھری کھولو !
ٹھہرو، گٹھری میں کچھ ہلچل سی ہے
خط کو دیکھو , پڑھکے بتاؤ
دور کہیں سے خط آیا ہے
خط میں خوں کے دھببے کیوں ہیں
پڑیا میں یہ زردہ کیا ہے
گٹھری میں پھر سے ہلچل ہے
کتھا، خوں سے کتنا تر ہے
گٹھری کھولو !
ھلکے بولو
خط دکھلاؤ
سب مل کر تفتیش کرینگ
بڑھیا ادھرگلئ میں کب آئ تھی
بٹوے میں اسکے کیا تھا
کون اسے روٹی دیتا تھا
ہندو تھی یا مسلم تھی
گٹھری کھولو !
کسےپتہ ہےاسکےرشتےکس سےتھے
بیوہ تھی یا طلاق شدہ؟
شوھرنےکیا نکال دیا تھا
یا دنگےمیں اس نےاپنا سب کچھ لٹا دیا تھا
یا مذہب کےنام په گھرکواسکے جلا دیا تھا؟
-سوال بہت ہیں جواب نہیں ہیں
گٹھری کھولو !
***********
https://alpst-politics.blogspot.com./ इस मंच से उठने वाली हर आवाज़ देश और समाज के बदलते राजनीतिक, सामाजिक व आर्थिक समीकरणों को दिशा प्रदान करती है. आइये! सब कंधे से कंधा मिलाकर प्रगतिशील और जागरूक भारत और उसके विकासशील समाज व राष्ट्र को अप्रदूषित, भयमुक्त, स्वच्छ और सशक्त लोकतंत्र का नया स्वर प्रदान करें।
आपकी रचनाएं आमंत्रित हैं। contact:https:alpst-politics.blogspot.com/ see site on pages https://facebook@ranjanzaidi786.com, and https://twitter@ranjanzaidi786.com, -लेखक
टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें